وفاقی شرعی عدالت پاکستان

وفاقی شرعی عدالت صدر مملکت کے حکم نمبر۱ کے تحت ۲۶ مئی  ۱۹۸۰ کو معرضِ وجود میں آئی۔ اس حکم کے ذریعے دستور پاکستان ۱۹۷۳ کے حصہ نمبر۷ میں باب( ۳ ۔الف) کا اضافہ کیا گیا، جس میں وفاقی شرعی عدالت سے متعلق جملہ امور کا ذکر کیا گیا۔ یہ عدالت ایک ایسا ادارہ ہے جس کی نظیر پوری مسلم اُمہ میں نہیں ملتی اور اس ادارے کو دستور کی طاقتور دفعات کی پشت پناہی حاصل ہے۔ دستورِ پاکستان کی تمہید قراردادِ مقاصد پرمشتمل ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی طاقت کا سرچشمہ ہے اور پاکستان کے عوام اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کو اُس کی معین کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے بطور امانت استعمال کریں گے۔ آئین کا آرٹیکل ( ۲ ۔ الف) واضح کرتا ہے کہ قرارداد مقاصد میں بیان کردہ قواعد و ضوابط آئین کا ایک لازمی جزو ہیں۔ آئین کا (آرٹیکل ۲۲۷) واضح کرتا ہے کہ تمام نافذ العمل قوانین کو قرآن اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق اسلامی سانچے میں ڈھالاجائے اور باب( ۳ ۔ الف) جو کہ وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات سے متعلق ہے، عدالت کو اختیاردیتا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے اور اس نکتے پر فیصلہ کرے کہ آیا کوئی قانون یا اس کی کوئی شق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے متعین کردہ شعائر اسلام کے مطابق ہے یا نہیں۔ دستور کے(آرٹیکل ۲۰۳ بی سی) میں قانون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ قانون میں ایسے رسم و رواج بھی شامل ہیں جوکہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں لیکن پاکستانی آئین، مسلم پرسنل لاء، کسی عدالت یا ٹریبونل سے متعلق ضابطہ کا کوئی قانون اس میں داخل نہ ہوگا۔