عزت مآب جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور

قائمقام چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت، پاکستان
2

تاریخ پیدائش : 1965-09-26

بطور قائمقام چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت عہدہ سنمبھالنے کی تاریخ: 16 مئی  2022ء

جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور بطور وکیل، پراسیکیوٹر اور جج کے وسیع تجربے کے حامل ہیں۔ ماضی میں آپ نے بطور قانون ساز وکیل، پبلک پالیسی میکر، لاء کے لیکچرر اور لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔بطور قانونی ماہر کے آپ نے مختلف عوامی، پرائیویٹ، تعلیمی، تحقیقی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ تنظیموں میں سینئر انتظامیہ اور انتظامی سطح پر خدمات بھی سرانجام دیں۔

عزت مآب جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور جوکہ مورخہ 21.05.2020 کو وفاقی شرعی عدالت, پاکستان میں بطور عالم جج تعینات ہوئے تھے،اورآپ نے مورخہ 16.05.2022 کو وفاقی  شرعی عدالت, پاکستان کے قائمقام چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

تعلیمی قابلیت

ڈاکٹوریٹ (پی ایچ ڈی)

اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی (یونیورسٹی آف پنجاب سے )

ماسٹر (ایل ایل ایم)

کیوشو نیشنل یونیورسٹی، جاپان سے انٹرنیشنل اکنامک لاء میں بطور منبوشو سکالر کی ڈگری جوکہ جاپانی حکومت کی اعلیٰ ترین سکالرشپ ہے

بیچلرز (ایل ایل بی (آنرز)

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد

مکمل تفسیرِ قرآن کورس (دورئہ تفسیر القرآن) جامعہ سراجیہ، راولپنڈی سے

فاضلِ عربی (مولوی فاضل)

ایم اے اسلامک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف دی پنجاب

ایم عربی لینگوئج و لٹریچر، یونیورسٹی آف دی پنجاب

ایم او ایل (ماسٹرز ان اوریئنٹل لرننگ)، یونیورسٹی آف دی پنجاب

تجربہ

بطور جج، وفاقی شرعی عدالت حلف اٹھانے سے قبل آپ درج ذیل عہدوں پر فائز رہے:-

– ممبر جوڈیشل، کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل، اسلام آباد

– ڈائریکٹر لیگل، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی

– چیئرمین، الیکٹرونک سرٹیفکیشن و ایکریڈیشن کونسل آف پاکستان

– ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان

– صدر، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن

– ممبر، اسلامی نظریاتی کونسل

– عدالتی معاون وفاقی شرعی عدالت

– ممبر اکیڈمک بورڈ، رفاہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی برائے رفاہ یونیورسٹی

متذکرہ بالا پوسٹوں کے علاوہ مختلف پرائیویٹ اور ترقیاتی سیکٹر میں بھی مختلف قانونی پوزیشنوں پر فائز رہے۔

قانونی مہارات وبین الاقوامی کورسز

* پرائیویٹ انٹرنیشنل لاء، دی ہیگ اکیڈمی آف انٹرنیشنل لاء، دی ہیگ، نیدرلینڈز (ہالینڈ)

* انسانی حقوق کے تحفظ کا بین الاقوامی کورس برائے ججز و وکلاء حضرات، دی نیدر لینڈ انسٹی ٹیوٹ برائے انسانی حقوق (Utrecht یونیورسٹی) دی ہیگ اکیڈمی آف بین الاقوامی قانون، دی ہیگ، نیدر لینڈز

* ڈپلومہ بین الاقوامی تجارتی قوانین بالخصوص ڈبلیو ٹی او و تجارتی قوانین، اکیڈمی برائے بین الاقوامین قوانین مکمل طور پر منظور شدہ برائے انسٹی ٹیوٹ آف یورپین سٹڈیز سے

بطور معلم تجربہ

جناب جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے مختلف یونیورسٹیز بطور وزیٹنگ فیکلٹی آف لاء کے خدمات سرانجام دیں۔ وقتاً فوقتاً ملک کے معروف ادارے مثلاً فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی، پی آئی ایچ آر اور آئی پی ایس اور دیگر بہت سے تحقیقی و تعلیمی اداروں میں اسلام، قانون، انسانی حقوق اور لسانیات کے موضاعت پر بھی لیکچرز دیئے۔

بین الاقوامی قانونی آرگنائزیشنز کی ممبرشپس

* ممبر، بین الاقوامی بار ایسوسی ایشن، لندن

* ایسوسی ایٹ، بین الاقوامی ماہر کمیشن برائے ماہرین قانون، جنیوا

* ممبر، برٹش انسٹی ٹیوٹ برائے مسابقتی و بین الاقوامی قوانین، لندن

* ممبر، عالمی ایسوسی ایشن برائے ماہرین قانون، واشنگٹن

* ممبر، بین الاقوامی نیوکلیئر لاء ایسوس ایشن، برسلز

قومی و بین الاقوامی کانفرنسز/سیمینارز/ورکشاپس

* بطور ممبر قانون برائے پاکستانی وفد کی حیثیت سے تیسری تجارتی پالیسی کے ازسرنو جائزہ کے حوالے سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شرکت (ایک عمل جوکہ ہر چھ سال بعد ہر ملک کو ادا کرنا ہوتا ہے)، جنیوا، سوئٹزرلینڈ

* وفاقی تحقیقاتی ادارے کے زیرانتظام وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں منعقدہ سائبر قوانین کے حوالے سے سیمینار سے خطاب

* بطور سربراہ پاکستانی وفد، سائبر دہشت گردی کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی (APT)، بوسان، کوریا میں ’’سائبردہشت گردی کی تشریح پاکستان میں سائبر قوانین کے تناظر میں‘‘ کے حوالے سے مقالہ

* سائبر سکیورٹی کانفرنس برائے خطۂ ایشیاء پیسیفک، دہلی، انڈیا، ایشیاء پیسیفک فورم میں پاکستانی وفد کی قیادت اور خطاب۔ سائبر دہشتگردی کے حوالے سے مقالہ بھی پیش کیا۔

* بطور کلیدی مقرر الیکٹرانک قوانین و الیکٹرانک بینکنگ کے موضوع پر الیکٹرانک کامرس ریسورس سنٹر، کراچی کے زیراہتمام کانفرنس سے خطاب۔ الیکٹرانک لین دین آرڈیننس 2002 کی اہمیت کے حوالے سے مقالہ بھی پیش کیا۔

* بطور کلیدی مقرر ٹیلی کمیونیکیشن و سپیس ٹیکنالوجی قوانین کے حوالے سے سپیس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب